سورۃ نمل : ایک چیونٹی کی زبان سے کائنات کے راز تک

میاں افتخار احمد

سورہ نمل کا آغاز حروف مقطعات طس سے ہوتا ہے اور یہ حروف اس بات کی علامت ہیں کہ قرآن ایک ایسا متن ہے جو اپنی زبان کے دھارے کو اپنے ہی انداز میں بہاتا ہے اور قاری کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ سطحی پڑھنے سے گہرے تدبر کی طرف مائل ہو۔ اس سورت کا مرکزی کردار حضرت سلیمان علیہ السلام ہیں جنہیں نہ صرف نبوت بلکہ بادشاہت اور مخلوقات کی زبان سمجھنے کی غیر معمولی صلاحیت عطا کی گئی تھی۔ یہ صلاحیت صرف ایک معجزاتی وصف نہیں بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ علم اور فہم کا رشتہ مخلوقات کے ساتھ اس طرح قائم کیا جا سکتا ہے کہ انسان اپنے گردوپیش کے ماحول کو صرف ایک خاموش منظر نامے کے بجائے ایک زندہ اور گویا نظام کے طور پر دیکھنے لگے۔ سورہ نمل کا پہلا سائنسی سراغ چیونٹی کی اس آیت میں ملتا ہے جہاں ایک چیونٹی اپنی قوم کو مخاطب کر کے کہتی ہے کہ سلیمان اور اس کے لشکر کے آنے سے پہلے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ تاکہ وہ تمہیں کچل نہ ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔ یہ آیت جس قدر سادہ بولی میں بیان ہوئی ہے اسی قدر اس کی گہرائی حیران کن ہے کیونکہ جدید حشریات نے بیسویں صدی کے نصف آخر میں دریافت کیا کہ چیونٹیاں ایک انتہائی منظم سماجی نظام میں رہتی ہیں اور ان کا آپس میں رابطہ کیمیکل سگنلز یعنی فرومونز کے ذریعے ہوتا ہے۔ چیونٹیوں کی ایک خاص نسل جب خطرے کو محسوس کرتی ہے تو وہ ایک مخصوص قسم کے الرٹ فرومونز خارج کرتی ہے جسے باقی چیونٹیاں اپنے اینٹینا کے ذریعے سونگھ کر فوری طور پر سمجھ جاتی ہیں اور پوری کالونی کو محفوظ مقام کی طرف منتقل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے۔ یہ عمل سوتیلی ماؤں کی ایک منظم فوجی کارروائی سے کم نہیں ہوتا اور اس میں وقت کا ضیاع بالکل نہیں ہوتا۔ قرآن نے اس حقیقت کو اس انداز میں بیان کیا ہے گویا چیونٹی کی زبان کو سلیمان علیہ السلام نے براہ راست سنا اور پھر وہ مسکرائے۔ اس مسکراہٹ میں نہ صرف حیرت ہے بلکہ اس عظیم نظام ہستی کے لیے شکر گزاری بھی ہے جو ایک ننھی مخلوق کو اتنی اعلی درجے کی مواصلاتی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ آج سائنسدان چیونٹیوں کے اس کیمیکل لینگویج سسٹم کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت کے ایسے الگورتھم تیار کر رہے ہیں جو بغیر کسی مرکزی کنٹرول کے باہمی تعاون سے پیچیدہ مسائل حل کر سکتے ہیں، جنہیں اینٹ کالونی آپٹیمائزیشن کہا جاتا ہے اور یہ طریقہ کار شہری منصوبہ بندی، نیٹ ورک روٹنگ اور حتی کہ روبوٹکس میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔ اس آیت کا فلسفیانہ پہلو یہ ہے کہ علم کا حصول محض انسانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر مخلوق کے پاس اس کی اپنی مخصوص معلومات کا ذخیرہ ہوتا ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ فطرت کے دوسرے باشندوں سے بھی سیکھے اور انہیں حقیر نہ سمجھے۔ چیونٹی کی یہ آیت اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ ایک بادشاہ اور نبی ہونے کے باوجود سلیمان علیہ السلام کی فوج میں نظم و ضبط اتنا اعلی تھا کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی مخلوق کو بھی نقصان نہ پہنچانا چاہتے تھے اور یہی توحیدی اخلاقیات کا فلسفہ ہے کہ طاقت کا استعمال صرف عدل اور رحمت کے لیے ہو، ظلم اور جبر کے لیے نہیں۔

سورہ نمل کا دوسرا نمایاں سائنسی گوشہ ہوپو پرندے سے متعلق ہے جب سلیمان علیہ السلام پرندوں کا جائزہ لیتے ہیں اور ہوپو کو غائب پاتے ہیں تو وہ اسے سخت سزا کی دھمکی دیتے ہیں لیکن پھر ہوپو ایک ایسی خبر لے کر آتا ہے جس نے پوری سلطنت کا رخ موڑ دیا۔ ہوپو پرندے کی خصوصیات جدید حیاتیات میں تفصیل سے پڑھی گئی ہیں۔ اس پرندے کی بینائی اور سماعت انتہائی تیز ہوتی ہے اور یہ زمینی کیڑوں کو تلاش کرنے میں ماہر ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہوپو کا مشاہداتی نظام اسے زمین پر پانی کے ذخائر اور پودوں کی موجودگی کا پتہ لگانے کے قابل بناتا ہے، اسی لیے قدیم تہذیبوں میں اسے پانی تلاش کرنے والا پرندہ کہا جاتا تھا۔ سورہ نمل میں ہوپو نے ملکہ سبا کے بارے میں جو معلومات دیں وہ ایک مکمل جغرافیائی سیاسی اور معاشرتی رپورٹ تھی جس میں اس نے عبادت کے نظام، حکمرانی کے ڈھانچے اور وسائل کی فراوانی کا ذکر کیا۔ یہ وہی صفات ہیں جنہیں جدید مواصلاتی سیٹلائٹس اور جاسوسی طیارے انجام دیتے ہیں، یعنی دور دراز علاقوں سے ڈیٹا اکٹھا کرنا، اسے تجزیہ کرنا اور پھر فیصلہ سازی کے لیے پیش کرنا۔ ہوپو کا یہ کردار ہمیں بتاتا ہے کہ معلومات کا صحیح استعمال کسی بھی حکومت یا قیادت کی کامیابی کا راز ہے اور سلیمان علیہ السلام نے اس معلومات کو محض تجسس کے طور پر نہیں لیا بلکہ اس کی بنیاد پر ایک مکمل سفارتی مشن تشکیل دیا۔ اس واقعے کا فلسفیانہ پہلو یہ ہے کہ علم اور طاقت کا رشتہ اس وقت تک مثمر نہیں ہوتا جب تک کہ علم کو طاقت پر مقدم نہ رکھا جائے، ہوپو ایک کمزور پرندہ تھا لیکن اس کی معلومات نے ایک بڑی سلطنت کو متاثر کیا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ حق اور حقیقت کا ذریعہ چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو اس کی قدر کی جانی چاہیے اگر وہ درست اور مفید ہو۔ اس کے ساتھ ہی یہ آیتیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ قدرتی دنیا میں موجود جانور محض بے شعور مخلوقات نہیں ہیں بلکہ ان کا ایک ادراکی نظام ہے جو بعض اوقات انسان کی سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے اور قرآن اس ادراک کو ایک معجزاتی زبان کے ذریعے ہمارے سامنے رکھتا ہے تاکہ ہم اپنی سائنس کو فطرت کے قریب تر کریں نہ کہ اس سے الگ ہو کر ماحولیاتی تباہی کا باعث بنیں۔

سورہ نمل کا تیسرا اور شاید سب سے زیادہ چیلنجنگ سائنسی پہلو وہ واقعہ ہے جب سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کے تخت کو اس کے اسلام لانے سے پہلے ہی اپنے پاس منگوانے کا ارادہ کیا اور ایک جن نے فوری طور پر اسے پیشکش کی کہ وہ اسے ایک لمحے سے بھی کم وقت میں لے آئے گا لیکن ایک صاحب علم شخص نے کہا کہ میں اسے اس سے بھی کم وقت میں لے آؤں گا، یعنی پلک جھپکنے سے بھی پہلے اور جب سلیمان نے اسے اپنے سامنے رکھا دیکھا تو اس نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ اس آیت کی سائنسی تشریح کے لیے ہمیں مادے کی منتقلی اور فاصلے کے تصور کو سمجھنا ہوگا۔ طبیعیات کے مطابق مادہ ایک جگہ سے دوسری جگہ اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ درمیانی جگہ کو طے نہ کرے اور یہ عمل وقت طلب ہے، مگر کوانٹم میکینکس نے بیسویں صدی کے اواخر میں ایک ایسا رجحان دریافت کیا جسے کوانٹم اینگلمنٹ یا کوانٹم الجھاؤ کہا جاتا ہے، جس میں دو ذرات ایک دوسرے سے اس طرح جڑ جاتے ہیں کہ ایک ذرے کی حالت کو دیکھتے ہی دوسرے ذرے کی حالت فوری طور پر متعین ہو جاتی ہے چاہے وہ کائنات کے دو مخالف سروں پر ہی کیوں نہ ہوں۔ اس دریافت نے طبیعیات دانوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا بڑی اشیاء کو بھی اس طرح منتقل کیا جا سکتا ہے یا نہیں اور آج کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کے تجربات لیبارٹریز میں چھوٹے ذرات، حتی کہ ایٹم اور چھوٹے مالیکیول تک کامیابی سے منتقل کر چکے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کسی بڑی شے کو ٹیلی پورٹ نہیں کیا جا سکا ہے لیکن نظریاتی طبیعیات دان اس امکان کو مسترد نہیں کرتے اور قرآن نے اسی ممکنہ حقیقت کو ایک نبی کے معجزے کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس آیت کا فلسفیانہ پیغام یہ ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو علم کی وہ کنجیاں عطا کی ہیں جنہیں وہ وقت کے ساتھ کھولتے رہتے ہیں اور اس وقت جو چیز ہمارے لیے معجزہ لگتی ہے وہ کل سائنس بن سکتی ہے، چنانچہ قرآن کسی بھی سائنسی دریافت کی نفی نہیں کرتا بلکہ اس کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ آیت اس بات کی تعلیم دیتی ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے اپنی اس غیر معمولی قدرت کو اپنی ذات کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ اسے ایک آزمائش اور اس کی حقیقی شناخت یہ ہے کہ اس نے فوری طور پر اپنے رب کا شکر ادا کیا اور کہا کہ یہ اس کی رحمت ہے تاکہ وہ جانچ لے کہ وہ شکر گزار ہے یا ناشکرا، یہ وہ فلسفہ ہے جو سائنس اور ایمان کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے، سائنس کا مقصد محض دریافت نہیں بلکہ اس کے ذریعے خالق کی عظمت کا ادراک اور اس کا شکر ادا کرنا ہے۔

سورہ نمل میں ملکہ سبا کے بارے میں جو تفصیلات ہیں وہ معاشیات اور سیاسی فلسفے کے لیے بھی اہم ہیں۔ جب سلیمان کا خط ملکہ سبا کو پہنچا تو اس نے اپنے مشیروں سے مشورہ کیا اور کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کر دیتے ہیں اور اس کے معزز لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں، یہ اس کی دانش مندی کو ظاہر کرتا ہے کہ اس نے طاقت کو محض جارحیت کے بجائے ایک سیاسی حقیقت کے طور پر دیکھا اور پھر اس نے تحفہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ سلیمان کے اصل ارادے کو جانچ سکے۔ اس واقعے کا معاشی تجزیہ یہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں تحائف اور سفارتی اشارے نہ صرف ایک رسم ہیں بلکہ معاشی اور طاقت کی پیمائش کا ذریعہ بھی ہیں، ملکہ سبا کے تحفے کو سلیمان نے رد کر دیا اور اس نے اسے واضح کیا کہ اللہ نے مجھے مال و دولت دیا ہے اور تمہارے تحفے مجھے کچھ نہیں دیتے، یہ ایک طاقتور معاشی فلسفہ ہے کہ حقیقی دولت خود کفالت اور خدائی عطیہ میں ہے نہ کہ دوسروں کے ہدیوں میں اور جب کوئی قوم دوسری قوم کو تحائف دے رہی ہو تو دراصل وہ اپنی معاشی کمزوری کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ جب ملکہ سبا خود سلیمان کے پاس آئی تو اس نے اپنے تخت کو اپنے محل میں نہ دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا اور جب اسے بتایا گیا کہ یہ تمہارا تخت ہے تو اس نے کہا یہ تو میرے تخت کی مانند ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے فوری طور پر حقیقت کو پہچان لیا اور اپنے علم کی حدود کو قبول کر لیا، یہ وہ فلسفہ ہے جو ایک عالم اور حکمران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جہالت کا اعتراف کرے اور سیکھنے کے لیے تیار رہے۔ اس کے بعد سلیمان نے اسے محل کے شیشے کے فرش کے بارے میں بتایا اور اسے اللہ کی توحید کی طرف بلایا تو اس نے اپنے پروردگار کو تسلیم کر لیا اور کہا کہ اس سے پہلے وہ اپنے نفس پر ظلم کرتی تھی اور اب وہ سلیمان کے ساتھ اللہ کی فرمانبردار ہو گئی۔ اس واقعے کا نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ جب کسی شخص کو اس کے اپنے علم اور اقتدار کی حدود کا پتہ چلتا ہے تو وہ قبولیت کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور توحید کا فلسفہ یہی ہے کہ تمام حقیقی علم اور طاقت کا مالک صرف ایک ہے اور انسان کو اس کی بارگاہ میں جھک جانا چاہیے۔

سورہ نمل کا ایک اور اہم علمی گوشہ اس کا لسانیاتی اور بلاغی پہلو ہے۔ اس سورت کا آغاز طس سے ہوتا ہے اور اس کے بعد فوراً آیات نازل ہوتی ہیں جو قرآن کی وضاحت کرتی ہیں۔ ماہرین لسانیات نے ان حروف مقطعات پر بہت تحقیق کی ہے اور انہیں عربی زبان کے صوتیاتی نظام کا ایک حصہ قرار دیا ہے جو قرآن کے موسیقارانہ اور صوتی اعجاز کو ظاہر کرتا ہے۔ جب یہ حروف پڑھے جاتے ہیں تو یہ قاری کو ایک خاص تال اور لے عطا کرتے ہیں اور اس کے بعد آنے والی آیات اس تال کو ایک مکمل نغمے میں ڈھال دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ سورہ نمل میں تشبیہات، استعارات اور کنایات کا استعمال اتنا اعلی درجے کا ہے کہ عربی ادب میں اسے ایک معیار کا درجہ حاصل ہے، مثال کے طور پر جب چیونٹی کہتی ہے کہ سلیمان کا لشکر تمہیں کچل ڈالے گا اور انہیں خبر بھی نہ ہو تو اس میں نہ صرف حقیقت کا اظہار ہے بلکہ طاقت کے اس پہلو کی طرف اشارہ ہے کہ بڑی سلطنتیں اکثر چھوٹی مخلوقات کو نقصان پہنچاتی ہیں بغیر اس کا احساس کیے اور یہ ایک اخلاقی تنبیہ ہے کہ طاقت کے مالکوں کو اپنے اعمال کا حساب دینا چاہیے۔ اسی طرح جب سلیمان ہوپو کو سخت سزا کی دھمکی دیتے ہیں تو یہ ایک انتظامی اور فوجی نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے جہاں ہر فرد اپنی ذمہ داری سے آگاہ ہے اور غفلت کی صورت میں اسے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا، یہ ایک جدید انتظامی نظریہ ہے جسے ہم آج کارپوریٹ گورننس اور پبلک ایڈمنسٹریشن میں دیکھتے ہیں۔سورہ نمل میں آیات کا ایک سلسلہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ کائنات کا نظام ایک عظیم کتاب کی مانند ہے جسے پڑھنے کے لیے انسان کو غور و فکر کرنا چاہیے، جیسے آیت میں ہے کہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ بنایا اور آسمان کو چھت اور پانی کو اتارا اور اس کے ذریعے پھل پیدا کیے، یہ وہ آیات ہیں جو براہ راست ماحولیاتی سائنس اور ہائیڈرولوجی سے متعلق ہیں۔ جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ زمین کی فضا ایک حفاظتی تہ کی مانند ہے جو نقصان دہ شعاعوں کو روکتی ہے اور پانی کا چکر ایک پیچیدہ نظام ہے جو زمین پر زندگی کو ممکن بناتا ہے، قرآن نے ان تمام حقیقتوں کو اس وقت بیان کیا جب انسان کا زمین اور آسمان کے بارے میں علم بہت محدود تھا اور آج کی سائنسی دریافتیں اس کے ہر لفظ کی تصدیق کر رہی ہیں۔ سورہ نمل کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ اس میں بار بار انسان کو اس کی عقل استعمال کرنے کی دعوت دی گئی ہے، جیسے آیت میں ہے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے تمہارے لیے زمین اور آسمان کی تمام چیزوں کو مسخر کر دیا ہے، یہ ایک فلسفیانہ بنیاد ہے کہ انسان کو اس دنیا میں صرف عبادت کے لیے نہیں بلکہ علم اور دریافت کے لیے بھی بھیجا گیا ہے اور یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔

اس سورت کے آخری حصے میں قیامت اور مرنے کے بعد اٹھنے کا ذکر ہے اور وہاں ایک عجیب سا واقعہ بیان ہوتا ہے جب ایک وادی میں چٹان سے ایک اونٹنی نکال کر دکھائی جاتی ہے اور لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اسے اللہ کے پانی پینے کا موقع دو اور خود بھی پانی پیو، یہ اس بات کی علامت ہے کہ قدرت کے نظام میں ایک توازن قائم ہے اور اگر انسان اس توازن کو تباہ کرتا ہے تو عذاب نازل ہوتا ہے، یہ آج کے ماحولیاتی بحران کی پیش گوئی کی طرح ہے جہاں انسان قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے اور اس کا نتیجہ موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ اس واقعے کا فلسفیانہ پہلو یہ ہے کہ انبیاء اپنی قوموں کو تنبیہ کرتے ہیں اور انہیں اعتدال اور توازن کی تعلیم دیتے ہیں لیکن جب قوم سرکشی کرتی ہے تو اس کا انجام تباہی ہوتا ہے، یہ وہی اصول ہے جو جدید سماجیات اور سیاسیات میں بھی پایا جاتا ہے کہ کوئی بھی نظام یا معاشرہ جو اپنی حدود سے تجاوز کر جائے وہ زوال پذیر ہو جاتا ہے۔سورہ نمل کا علمی تجزیہ ایک اور زاویے سے بھی کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے اس کا نفسیاتی اور علمی نفسیات سے تعلق۔ جب سلیمان علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اسے اپنے والدین کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق دے اور اسے صالح اعمال کی طرف رہنمائی کرے تو یہ ایک ایسا نفسیاتی عمل ہے جسے جدید مثبت نفسیات میں گریٹی ٹیوڈ یا شکر گزاری کا طریقہ کار کہا جاتا ہے، جس سے انسان کی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے اور وہ زندگی کے دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتا ہے۔ اسی طرح سلیمان کا پرندوں اور جانوروں کی زبان سمجھنا اس بات کی علامت ہے کہ ہمہ گیر ہمدردی اور دوسری مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگی انسانی ذہن کو ایک اعلی سطح کی شعوری کیفیت عطا کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جدید نفسیات میں نیچر تھیراپی اور جانوروں کے ساتھ وقت گزارنے کو علاج معالجے کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ سورہ نمل میں جس طرح سلیمان نے اپنے لشکر کا جائزہ لیا اور اس میں ایک پرندے کی غیر حاضری کو نوٹ کیا، یہ ایک ایسا انتظامی رویہ ہے جو جدید مینجمنٹ سائنس میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے، جہاں ہر چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کو نظر انداز نہیں کیا جاتا اور لیڈر کو اپنی ٹیم کے ہر فرد کی کارکردگی کا علم ہونا چاہیے۔ یہ وہی اصول ہیں جنہیں آج کے کاروباری ادارے اپنے ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں اور کسی بھی ممکنہ کمزوری کو وقت رہتے دور کر سکیں۔

سورہ نمل کی علمی گہرائی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اس میں زمین اور آسمان کی تخلیق کے بارے میں جو اشارے ہیں وہ جدید علم فلکیات سے بھی مطابقت رکھتے ہیں، جیسے آیت میں ہے کہ آسمانوں اور زمین کو اللہ نے حق کے ساتھ پیدا کیا، یعنی یہ تخلیق محض اتفاقی نہیں ہے بلکہ ایک منصوبہ بند اور حکیمانہ نظام ہے۔ فلکیات دان آج کائنات کی ساخت اور اس کے ارتقاء کا مطالعہ کرتے ہیں اور وہ یہ دیکھتے ہیں کہ کائنات میں ایک نہایت پیچیدہ اور عجیب قسم کا توازن پایا جاتا ہے، جسے فائن ٹیوننگ کہتے ہیں، جہاں اگر کوئی ایک چھوٹا سا فیکٹر بھی بدل جائے تو زندگی کا وجود ممکن نہیں رہے گا۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سائنس اور الٰہیات ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور سورہ نمل اس ملن کو ایک خوبصورت اور پراثر انداز میں بیان کرتی ہے۔

سورہ نمل کا اختتامی حصہ اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ تمام تر طاقت اور علم کے باوجود صرف اللہ ہی غیب کا علم رکھتا ہے اور انسان کو اس کے سامنے جھکنا ہی عقل مندی ہے۔ یہ وہ فلسفیانہ نکتہ ہے جو تمام سائنسی تحقیق کو ایک روحانی جہت عطا کرتا ہے کہ سائنس جتنی بھی ترقی کر لے، اس کی حدود ہیں اور اس حدود سے باہر ایک ایسی حقیقت ہے جسے صرف ایمان اور وحی کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ اس لیے سورہ نمل کو پڑھتے ہوئے قاری کو ایک مسلسل علمی اور روحانی سفر کا تجربہ ہوتا ہے جہاں ایک طرف چیونٹی اور ہوپو کی کہانیاں ہیں اور دوسری طرف کائنات کے فلسفیانہ اور مابعدالطبیعیاتی سوالات ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہیں کہ کوئی بھی شخص جو اس سورت میں غور و فکر کرتا ہے وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ حقیقت ایک ہے اور اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے دونوں راستے، سائنس اور ایمان، ایک دوسرے کے تکمیلی ہیں، متضاد نہیں۔ اس سورت کا پیغام آج کے دور میں اور بھی زیادہ اہم ہے جب انسان نے سائنس کی بنیاد پر اپنی طاقت کو بہت بڑھا لیا ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی روحانی اور اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر لیا ہے، جس کی وجہ سے وہ ماحولیاتی بحران، جنگیں اور معاشی عدم مساوات جیسے مسائل کا شکار ہے اور اس کا حل یہی ہے کہ وہ سورہ نمل کی طرح اپنے گردوپیش کی ہر چھوٹی سے بڑی مخلوق کو احترام کی نظر سے دیکھے، ان سے سیکھے، اور اپنی تمام تر دریافتوں کو اللہ کی عظمت کے اظہار کا ذریعہ بنائے، نہ کہ اس سے بغاوت کا۔ یہ وہ راستہ ہے جو انسان کو حقیقی کامیابی عطا کرتا ہے، جس کا آغاز ایک چیونٹی کی آواز سننے سے ہوتا ہے اور انجام کائنات کے خالق کی بارگاہ میں سر تسلیم خم کرنے تک جاتا ہے۔